۱. غمِ معتبر نہیں ہے، مکمل خوشی نہیں
کیا وقت ہے کہ لطفِ محبت میں بھی نہیں
۲. یہ تو نہیں کہ مجھکو سر مے کشی نہیں
لیکن ابھی نہیں، مرے ساقی، ابھی نہیں
۳. تسخیرِ مہر و ماہ مبارک تجھے مگر
دل میں نہیں اگر تو کہیں روشنی نہیں
۴. واعظ اب اور کیا کہوں، لیکن خطا معاف
جو تیرے سامنے ہے حقیقت وہی نہیں
۵. کیا جانئے یہ کون سا عالم ہے اے جگرؔ
دل مضطرب ہے اور کوئی بات بھی نہیں