۱. حیرت عشق نہیں شوق جنوں گوش نہیں
بے حجابانہ چلے آؤ مجھے ہوش نہیں
۲. رند جو مجھ کو سمجھتے ہیں انہیں ہوش نہیں
مے کدہ ساز ہوں میں مے کدہ بردوش نہیں
۳. کہہ گئی کان میں آ کر تیرے دامن کی ہوا
صاحب ہوش وہی ہے کہ جسے ہوش نہیں
۴. کبھی ان مدھ بھری آنکھوں سے پیا تھا اک جام
آج تک ہوش نہیں ہوش نہیں ہوش نہیں
۵. محو تسبیح تو سب ہیں مگر ادراک کہاں
زندگی خود ہی عبادت ہے مگر ہوش نہیں
۶. کون سا جلوہ یہاں آتے ہی بیہوش نہیں؟
دلِ مرا دل ہے، کوئی ساغرِ سر جوش نہیں
۷. پاؤں اٹھ سکتے نہیں منزلِ جاناں کے خلاف
اور اگر ہوش کی پوچھو تو مجھے ہوش نہیں
۸. حسن سے عشق جدا ہے نہ جدا عشق سے حسن
کونسی شے ہے؟ جو آغوش در آغوش نہیں
۹. مٹ چکے ذہن سے سب یادِ گزشتہ کے نقوش
پھر بھی اک چیز ہے ایسی کہ فراموش نہیں
۱۰. ایک گوشہ میں سمٹ آ ئے ہیں دونوں عالم
میرا دامن ہے کسی اور کا آغوش نہیں
۱۱. اب تو تاثیرِ غمِ عشق یہاں تک پہنچی
کہ ادھر ہوش اگر ہے تو اُدھر ہوش نہیں
۱۲. زیست ہے زیست جو رگ رگ میں رواں ہے مئے عشق
موت ہے موت اگر رقص نہیں، جوش نہیں
۱۳. عشق اگر حسن کے جلووں کا ہے مرہونِ کرم
حسن بھی عشق کے احساں سے سبکدوش نہیں
۱۴. اپنے ہی حسن کا دیوانہ بنا پھرتا ہوں
میرے آغوش کا اب حسرتِ آغوش نہیں
۱۵. مل کے اک بار گیا ہے کوئی جس دن سے جگر
مجھکو یہ وہم ہے جیسے مرا آغوش نہیں