۱. یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے
یہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہے
۲. جو ذرا سی پی کے بہک گیا اسے میکدے سے نکال دو
یہاں تنگ نظر کا گزر نہیں یہاں اہل ظرف کا کام ہے
۳. کوئی مست ہے کوئی تشنہ لب تو کسی کے ہاتھ میں جام ہے
مگر اس پہ کوئی کرے بھی کیا یے تو میکدے کا نظام ہے
۴. یہ جناب شیخ کا فلسفہ ہے عجیب سارے جہان سے
جو وہاں پیو تو حلال ہے جو یہاں پیو تو حرام ہے
۵. تجھے اپنے حسن کا واسطہ میرے شوق دید پہ رحم کھا
ذرا مسکرا کے نقاب اٹھا کہ نظر کو شوق سلام ہے
۶. نہ سنا تو حور و قصور کی یہ حکایتیں مجھے واعظا
کوئی بات کر در یار کی در یار ہی سے تو کام ہے
۷. نہ تو اعتکاف سے کچھ غرض نہ ثواب و زہد سے واسطہ
تری دید ایسی نماز ہے نہ سجود ہے نہ قیام ہے
۸. یہ درست کہ عیب ہے مے کشی یہ بجا کہ بادہ حرام ہے
مگر اب سوال یہ آ پڑا کہ تمھارے ہاتھ میں جام ہے
۹. جو اٹھی تو صبح دوام تھی جو جھکی تو شام ہی شام تھی
تری چشم مست میں ساقیا مری زندگی کا نظام ہے
۱۰. مرا فرض ہے کہ پڑا رہوں تری بارگاہ میں ساقیا
کوئی تشنہ لب ہے کہ سیر ہے یہی دیکھنا ترا کام ہے
۱۱. اسی کائنات میں اے جگرؔ کوئی انقلاب اٹھے گا پھر
کہ بلند ہو کے بھی آدمی ابھی خواہشوں کا غلام ہے