۱. حرص دولت کی نہ عزّ و جاہ کی
بس تمنا ہے دلِ آگاہ کی
۲. دردِ دل کتنا پسند آیا اُسے
میں نے جب کی آہ اُس نے واہ کی
۳. کھنچ گئے کنعاں سے یوسفؔ مصر کو
پوچھئے حضرت سے قوتِ چاہ کی
۴. بس سلوک اُس کا ہے منزل اُس کی ہے
اُس کے دل تک جس نے اپنی راہ کی
۵. کس کی حسرت نے جگایا تھا ہمیں
نیند سوئے قبر میں نوشاہ کی
۶. مجھ سے مجرم کے لیے خلدِ بریں
مہربانی ہے رسول اللہؐ کی
۷. یاد آئی طاقِ بیت اللہ میں
بیتِ ابرو اُس بُتِ دل خواہ کی
۸. راہِ حق کی ہے اگر آسیؔ تلاش
خاک رہ ہو مردِ حق آگاہ کی