۱. مجھ کو وہ لذت ملی، احساسِ مشکل ہو گیا
رہتے رہتے دل میں تیرا درد بھی، دل ہو گیا
۲. اے نگاہِ یاس! یہ کیا رنگِ محفل ہو گیا
میں نے جس دل کی طرف دیکھا، مرا دل ہو گیا
۳. لے ہی پہنچی بیخودیِ شوق بزمِ یار تک
گو مجھے اک اک قدم ایک ایک منزل ہو گیا
۴. ابتدا وہ تھی، کہ تھا جینا محبت میں محال
انتہا یہ ہے کہ اب مرنا بھی مشکل ہو گیا