تو اپنے دل سے غیر کی الفت نہ کھو سکا
میں چاہوں اور کو تو یہ مجھ سے نہ ہو سکا
رکھتا ہوں ایسے طالعِ بیدار میں کہ رات
ہمسایہ میرے نالوں کی دولت نہ سو سکا
گو نالہ نا رسا ہوا نہ ہو آہ میں اثر
میں نے تو درگزر نہ کی جو مجھ سے ہو سکا
دشتِ عدم میں جا کے نکالوں گا جی کا غم
کنجِ جہاں میں کھول کے دل میں نہ رو سکا
جوں شمع روتے روتے ہی گزری تمام عمر
تو بھی تو درد داغِ جگر کو نہ دھو سکا